پریس کلب آف پاکستان یوکے کے وفد کی لارڈ مئیر آف مانچسٹر یاسیمین ڈار سے ان کے چیمپبر میں خصوصی ملاقات کی ۔

پریس کلب آف پاکستان یوکے کے وفد نے مورخہ 16اگست 2023 کو لارڈ مئیر آف مانچسٹر یاسیمین ڈار سے ان کے چیمپبر میں خصوصی ملاقات کی ۔
چیئرمین پریس کلب آف پاکستان یوکے اعجاز افضل شیخ کی سربراہی میں ملاقات کرنے والے وفد میں چیف کوارڈینیٹر محمود اصغر چودھری ، سنیئر نائب صدر شوکت قریشی ، سیکرٹری جنرل تاثیر احمد، ڈپٹی سیکرٹری سحر علی ، فنانس سیکرٹری سمیرا اشرف، ایگزیکٹو چودھری عارف پندھیر، راجہ عامر مقصود اور چودھری الطاف شاہد سدھو شامل تھے ۔
ملاقات میں ایک جانب تو یاسمین ڈار کو مانچسٹر کی پہلی مسلمان خاتون لارڈ مئیر بننے پر مبارکباد پیش کی تو دوسری جانب برطانیہ میں موجود پاکستانی صحافیوں کے کردار ، انتھک محنت اور ان کے مسائل کے ساتھ مقامی پاکستانی کمونٹی کے مسائل پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔
چئیرمین اعجاز افضل شیخ کا کہنا تھا کہ برٹش پاکستانی خواتین برطانوی سیاست میں تاریخ رقم کر رہی ہیں ۔ الطاف شاہد سدھو کا کہنا تھا کہ ایک برٹش پاکستانی خاتون کا مانچسٹر کے لارڈ مئیر بن جانا برطانیہ میں موجود پاکستانی خواتین کے لئے نمونہ ثابت ہوں گی ۔ چودھری عارف پندھیر کا کہنا تھا کہ یاسمین ڈار کی کامیابی سب پاکستانیوں کے لئے باعث افتخار ہے ۔ سحر علی کا کہنا تھا کہ لارڈ مئیر کی کامیابی کے بعد برٹش پاکستانی خواتین میں سیاسی سرگرمیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔ چودھری تاثیر احمد کا کہنا تھا کہ یاسمین ڈار کی کامیابی برطانوی سوسائٹی میں پاکستانی ثقافت کا بہتر امیج بنائے گی
لارڈ مئیر کے سامنے مانچسٹر میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل اجاگر کرتے ہوئے سمیرا اشرف کا کہنا تھا کہ پاکستانی فیملیز بیشتر سماجی و خاندانی مسائل کا شکار ہیں جس میں زبردستی کی شادی، طلاق کا رجحان اور چھوٹے بچوں کی تربیت کے مسائل نمایاں ہیں ۔ شوکت قریشی نے لارڈ مئیر کو کونسل ہائوسنگ سے متعلقہ در پیش مسائل پیش کئے ۔ راجہ عامر مقصود کا کہنا تھا کہ لارڈ مئیر دونوں ثقافتوں کو خوب جانتی ہیں اس لئے برٹش پاکستانی کمونٹی کے مسائل کے حوالے سے ان کی راہنمائی بھی کر سکتی ہیں۔
صحافیوں کے حوالے سے مسائل پیش کرتے ہوئے چیف کوارڈینیٹر محمود اصغر چودھری کا لارڈ مئیر یاسمین ڈار کو کہنا تھا کہ برطانیہ میں موجود پاکستانی صحافی دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ وہ برٹش پاکستانی کمونٹی کو برطانوی اقدار، برطانوی قوانین اور روزمرہ کے مسائل سے آگاہ رکھتے ہیں کیونکہ اس وقت اردو برطانیہ کی چوتھی بڑی زبان بن چکی ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود برطانوی اداروں کی جانب سے ان صحافیوں کی خدمات کا بھرپور اعتراف ناپید ہے
یاسیمن ڈار نے اس لمبی اور تفصیلی ملاقات میں تمام نکات کو بڑی توجہ سے سنا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستانی صحافیوں کا برطانیہ میں بہت مثبت کردار ہے ۔ کورونا وبا کے مسائل ہوں یا مقامی سیاست پاکستانی صحافیوں نے ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے ۔۔ جذبہ نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا
آخر میں پریس کلب کے ممبران کو لارڈ مئیر کی جانب سے خصوصی بیج پیش کیے گئے اور تمام ممبران نے لارڈ مئیر کی یاداشت بک میں اپنے اپنے خیالات رقم کئے ۔۔

http://pcopuk.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*